اہل بیت نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسعود پزشکیان نے صوبہ آذربائیجان شرقی کی منصوبہ بندی و ترقیاتی کونسل کے اجلاس میں آن لائن شرکت کرتے ہوئے صوبائی منتظمین کو اختیارات منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مدیران اور حکام کو ہر معاملے میں تہران سے ہدایات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ حکمرانی کے اصول اور منطق کا تقاضا ہے کہ انہیں مکمل اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ خود فیصلے کرسکیں۔ ان کے بقول، صوبائی حکام صلاحیت اور تدبیر کے اعتبار سے مرکزی حکام سے کم نہیں اور اپنے معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھا سکتے ہیں۔
ایرانی صدر نے ملک کی نازک صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کے بعد گزشتہ 48 برسوں میں ایران کو کبھی اس شدت کے دباؤ اور مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے فوجی کمانڈروں اور حکام کو قتل کرنے، رہنماؤں کو شہید کرنے اور ہمہ گیر حملوں کے ذریعے ملک کو گرانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، دشمن نے سمندری، فضائی اور زمینی راستے بند کرکے عوام تک خدمات کی فراہمی روکنے اور لوگوں میں عدم اطمینان پیدا کرنے کی کوشش بھی کی۔
پزشکیان نے کہا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود ایران مضبوطی سے کھڑا ہے اور ملک کی ضروریات پوری کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ شہروں، اضلاع اور صوبوں میں موجود مسائل حل کیے جاسکیں۔
انہوں نے مزید کہا: یا تو ہم راستہ بنائیں گے یا کوئی راستہ تلاش کریں گے، اور آپ کے تعاون سے ہم یہ سفر طے کریں گے۔
پزشکیان نے محلہ محور اور مسجد محور سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد مقامی حکمرانی کو مضبوط بنانا اور فیصلہ سازی و مسائل کے حل میں عوام کی حقیقی شرکت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو ایک دوسرے کے مسائل سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے اور اس جذبے کے ساتھ کام کرنا چاہیے جیسے تمام راستے بند ہوں اور انہیں خود ہی حل تلاش کرنا ہو۔
ایرانی صدر کے مطابق، دشمن اختلافات پیدا کرنے اور ملک میں عدم ہم آہنگی کا تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن حکومت عوام اور منتظمین کے تعاون سے ملک کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
پزشکیان نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر دشمن کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بجلی گھروں، گیس کے نیٹ ورک اور صنعتی کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق، ملک پہلے ہی یومیہ 30 کروڑ مکعب میٹر گیس کی کمی کا سامنا کر رہا تھا، جبکہ دشمن نے روزانہ 23 کروڑ مکعب میٹر گیس کی ترسیل سے متعلق نظام کو بھی نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ ایران ہر ممکن طریقے سے پیداوار، بجلی اور گیس کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ صنعتیں بند نہ ہوں۔
صدر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ توانائی کی بچت کی مہم میں حصہ لیں اور گھروں میں گرم کپڑے پہن کر ہیٹنگ کے استعمال میں کمی کریں، تاکہ ملکی صنعت کو سہارا ملے اور پیداوار کا سلسلہ جاری رہے۔
آپ کا تبصرہ